12/07/2013

مرکزی اجسام یا اعضائے رئیسہ

0 تبصرے
طب اور روحانیت میں مرکزی اجسام جنہیں اعضائے رئیسہ کے نام سے بھی جاناجاتا ہے

طب میں                                                        روحانیت میں

دل                                                                  قلب 

دماغ                                                             انفس/ملائے اعلٰی

جگر                                                             روح

معدہ                                                              نفس

اور دیگر اجزاء بھی ایک خاص ترتیب میں باہم مشترک کیفیات لیے ہوئے

12/03/2013

بدنی بیماریوں اور روحانی بیماریوں کی اجمالی تقسیم (2)

0 تبصرے
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا بدن اچھی غذائوں سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور ناقص غذائیں ہمارے بدن کا حصہ بن اس کے لیےضعف اور بیماری کا باعث بنتی ہیں۔ اور جب بھی ہم کوئ غذا لیتے چاہے بہترین ہو یا ناقص وہ معدے میں جاتی ہے اور وہاں اس پر مختلف کیمیائی عوامل وقوع پذیر ہوتے ہیں جس کے بعد وہ ہمارے بدن کاجزو بنتی ہے۔ اگر غذا معتدل اور جسم کے مزاج کے موافق ہو تو اس جسم کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور ایسی غذا انسان کو قوت فراہم کرتی ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے اپنے علماء سے سنا ہے کہ جب ہم غذا کا لقمہ منہ میں رکھتے ہیںتو وہ لقمہ اللہ سے اجازت کا طلٓب گار ہوتا ہے کہ ہمارے لیے صحت بنے یا بیماری۔
اگر اللہ کی طرف سے بیماری کا فیصلہ آجائے تو قیمتی سے قیمتی اور بہترین غذا انسان کے لیے زہر بن جاتی ہے۔ جیسا کہ ہمارا مشاہدہ کہ کچھ لوگوں کو ڈاکٹراورحکیم سب کچھ کھاناچھڑوا دیتے ہیں اور ان کا گذارا صرف معمولی دال دلیے پر ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ہر شے نقصان دہ قرار پاتی ہے۔
چونکہ غذا معدے میں جانے کے بعد ہی انسان کے جسم کا جزو بنتی ہے اس معدہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے بیماری یا صحت کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔
امراض جسمانیہ وروحانیہ کئی طرح کے ہوتے ہیں انہیں اجمالی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ۔ اندرونی امراض اور بیرونی امراض۔
بیرونی امراض کا اندازہ تو مریض کے ظاہری مشاہدہ سے کیا جاسکتا ہے جبکہ اندرونی امراض کو جاننے کے تفصیلی مذاکرے، مشاہدے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
 حوادث کے علاوہ بدن کے اندرون میں پیدا ہونے والی اکثر بیماریوں کا مرکز  معدہ مانا جاتاہے۔ درد جگر ہو،ضعف دماغ یا عارضہ قلب ڈاکٹر یا حکیم کا پہلا سوال غذا کے متعلق ہی ہوتا ہے۔اسی بنیاد پر بدنی بیماریوں اور عوارض کا بنیادی مرکزمعدہ کو کہا جاتا ہے۔
ماہرین روحانیہ کے نزدیک امراض روحانیہ کا مرکز نفس کو کہا جاتا ہے اور نفس کا مقام معدہ کے عین نیچے ہے.


یہ نفس ہی ہے جس کی تحریک پر معدہ اچھی اور بہتر غذا کی خواہش رکھتا ہے۔ اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ غذا کے حصول کے کونسا طریقہ اختیا ر کیا جائے۔ یہ تو عقل ہے جو اس کی راہنمائی کرتی ہے۔
اللہ رب العزت نے عقل کو چوکیدار مقرر فرمایا ہے تاکہ معدہ اور نفس کی باہمی میل جول سے انسان ان کے قابو میں آکر کہیں غلط راہوں پرنہ چل کھڑاہو۔
امام غزالی نے عقل اور نفس کی مثال سوار اور گھوڑے کی دی ہے اگر گھوڑا طاقتورہو گا تو سوار کو گرادے گا اور اگرسوار طاقتور ہوگا تو گھوڑے کو اپنے راستے پر لے چلے گا ۔
نفس اندھیری راہوں کا مسافر ہے اسے بس اپنے مقصد کے حصول سے غرض ہوتی ہے اور اس کے طریقے سے نہیں چاہے غلط ہو یا ٹھیک۔ جبکہ عقل سلیم روح کی نمائندہ ہے اور اس کا تعلق آسمانوں سے اس لیے وہ آسمانی علوم کی روشنی میں اپنی راہ کا تعیین کرتی ہے اور صرف اسی طریقے اور ذریعے کو اختیا ر کرتی ہے جن میں علوم الٰہیہ اس کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو امراض روحانیہ سے محفوظ رکھتی ہے۔
جس طرح امراض جسمانیہ کا آغآز عموماً غذا کی بے اعتدالی سے ہوتا ہے اسی طرح روحآنی امراض کا آغاز نفس کی پسند پر چلنے سے ہوتاہے
ابتدا میں امراض جسمانیہ مفرد ہوتے ہیں اور مناسب علاج معالجہ سے قابو میں آجاتے ہیں اگر ان کے علاج میں کہیں غلطی ہوجائے یا دیر ہوجائے تو یہ مرکب صورت اختیار کرلیتے ہیں لیکن پھربھی ایک حد تک ماہر معالجین ان پر قابو پالیتے ہیں۔
اسی طرح امراض روحآنیہ بھی ابتدا میں مفرد ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان پر ہماری توجہ اتنی نہیں ہوتی جتنی امراض بدنیہ پر، اس وجہ سے یہ مرکب در مرکب ہوجاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسی صورت اختیار کرلیتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو مریض کی بجائے معالج تصورکرنےلگ جاتا ہےاوراس کا علاج ناممکن ہوجاتا ہے الا یہ کہ اللہ کی طرف  خصوصی رحمت ہوجائے۔
اور بعض دفعہ علاج کے دوران یہ امرض اپنی صورت بدل کرمعالج کو بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔اس کا علاج صرف وہی کرسکتا ہے جو علوم قرآن وسنت کا نہ صرف حقیقی عالم ہو بلکہ عاملِِِِِ کامل بھی ہو۔
عامل  بمعنی  ذاتی طور عمل کرنے والا قرآن وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے والا نہ کہ جھاڑ پھونک والا۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں عاملین کاملین سے اپنے روحانی علاج کروانے کی تو فیق عنایت فرمائیں ۔ آمین۔

12/02/2013

بدنی امراض اور روحانی امراض کافرق

0 تبصرے

بدنی امراض اور روحانی امراض کافرق


بدنی امراض وہ ہیں جو ہمارے جسم کی اندرونی وبیرونی کیفیات یا حالات کی تبدیلی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ہمارا مختلف عناصر کا مجموعہ ہے اور صحت ان عناصر کی اعتدالی حالت سے قائم رہتی ہے۔ ا ن عناصر میں مقدار یا کیفیت کی تبدیلی سے جسم کی کیفیت یا حالت میں تبدیلیا ں وقوع پذیر ہوتی ہیں اور ان تبدیلیوں کی کچھ بیرونی اور کچھ اندرونی وجوہات ہوتی ہیں۔ 
بیرونی وجوہات میں مادی اور غیر مادی دونوں قسم کے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں جیسا کہ غذا میں ایسی اشیا ء استعمال کرنا جو طبیعت اور مزاج کے خلاف ہوں اور ان میں بے اعتدالی ،غیر پسندیدگی، مخالف مزاج یا دیگر حالات پائے جائیں۔
اور غیر مادی، ایسے حالات یا کیفیت میں کھانا کھانا جو طبیعت کے موافق نہ ہوں جیسا کہ غصے،غم اور تکلیف کی حالت میں کھانا کھانے سے غذا سے مثبت اثرات مرتب ہونے کی بجائے انسان جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے ان حالات میں روزمرہ کی غذا لینے کی ممانعت کی جاتی ہے اور پہلے اپنے آپ کو ان کیفیات سے باہر لا کر پھر کھانا وغیرہ کھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
اور پھر اس چیز کی بھی تاکید کی جاتی ہے کہ ایسی غذا لی جائے جولطیف اور طبیعت کے موافق ہواور ایسی غذا سے روکا جاتاہے جس سے طبیعت ناموافق ہو۔ اسی لیے مرض کی حالت میں مریض کو ہلکی، زودہضم اورموافق غذاؤں کی تاکید کی جاتی ہے۔
زیادہ تراندرونی وجوہات بیرونی وجوہات کے تابع ہوتی ہیں اور بیرونی کیفیات یا حالات بدلنے سے جسم کے عناصر کی ترتیب سے خلل واقع ہو جاتا ہے ا اور بروقت مناسب تشخیص نہ ہونے کی وجہ اندرونی کیفیات سادہ نہیں رہ پاتیں بلکہ مرکب ہوجاتی ہیں اور اس میں تبدیلیوں کی ایک زنجیر بنتی چلی جاتی ہے اور مختلف امراض کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ 
یہ تو ایک سادہ سا بیان ہے تاکہ بدنی امراض کے وقوع پذیر ہونے بارے میں
مختصر ابتدائی حالات سے آگاہی ہو سکے۔
اور روحانی امراض ایسے ہیں کہ جن میں روح اپنی اصل سے ہٹنے اور بدنی کیفیات سے مغلوب ہونے لگتی ہے اور انسان اپنے اصلی مقام اور مکان دونوں سے غافل ہوجاتاہے۔
انسان کی روح بھی انسانی بدن کی طرح اندرونی وبیرونی ہمہ قسم کی کیفیات وحالات سے متاء ثر ہوتی ہے ۔ اور اس کی اندرونی کیفیات بھی بیرونی حالات و واقعات کی تبدیلیوں سے جنم لیتی ہیں اور یہ بھی جسمانی امراض کی طرح سادہ سے مرکب کاسفر طے کرنے لگتی ہیں۔ 
جس طرح کسی جسمانی مرض کا علاج ابتدا میں آسانی سے کیا جا سکتا ہے اسی طرح روحانی امراض کا علاج ابتدا میں آسانی سے ممکن ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ جسمانی امراض میں فوری علاج معالجہ کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور روحانی امراض کو ہم مرض ہی نہیں سمجھتے بلکہ بعض روحانی امراض کو نا سمجھتے ہوئے خود اختیار کرلیتے ہیں اور اسی میں اپنی بڑائی خیال کرتے ہیں جو بجائے خود ایک شدید ترین روحانی مرض ہے اور اس کی اتنی صورتیں ہیں کہ بعض اوقات ایک کا علاج ہوتے ہوتے دوسری جنم لے لیتی ہے جس کی وجہ سے ایسے ا مراض کا علاج دشوار تر ہو جاتا ہے الاٌ یہ کہ اللہ کی طرف سے نظر کرم ہو جائے اور ہم پر اپنے روحانی امراض آشکارا ہوجائیں اور ہم اپنے علاج کی فکر میں لگ جائیں 
اگر غور کیا جائے تو در حقیقت کسی بھی معاشرہ میں بد امنی،بے سکونی، بے چینی اور دیگر تکلیف دینے والی کیفیات کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ معاشرہ بحیثت قوم اپنے روحانی امراض سے ناواقف اور بے بہرہ ہے۔ 
اگر آج ہم تھوڑا غور کرلیں اور اپنے اندرکی ان روحانی بیماریوں کو پہچان لیں اور اپنے علاج کی فکر کرلیں تو اللہ رب العزت سے امید ہے کہ ہمارے حالت بدل جائیں گے۔
یاد رہے یہ فیصلہ بھی اسی کا جو ہمارا تخلیق کا ر ہے

\" اِنّ اللہ لَایُغَیِّرُمَابِقَوم حَتّٰی یُغَیِّرُمَابِاَنفُسِھِم \"
اللہ ر ب العزت سے التجا ہے کہ ہمارے حال پہ کرم فرمائے اور ہم پر ہمارے روحانی امراض کو آشکار کردے اور ان سے بچنے کے اسباب مرحمت فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین بوجھک الکریم۔

11/30/2013

بدنی وروحانی صحت کے ذرائع(2)

1 تبصرے
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ پوسٹ میں بات چل رہی تھی کہ انسان اپنی جسمانی صحت کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور روحانی صحت کی طرف سے یکسرغافل ہے لہذا اسےچاہیے کہ جتنا اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھتا ہے اس سے کہیں زیادہ اپنی روحانی صحت کی فکر کرے۔
ایک اللہ والے کا قول ہے،اور یہ قول ہماری زندگی کی حقیقی ترجمانی بھی کرتا ہے،  
              "گندگی ڈالنے کے لیے محنت نہیں کرنا پڑتی آدمی صرف
               صفائی کرنا چھوڑ دے تو گندگی پھیلنا شروع ہو جائے گی
              جبکہ صفائی کے لیے محنت،وقت اور قوت درکار ہوتی ہے
              جسکے بغیر صفائی ناممکن ہے۔"
اور ہمارا یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہم جس کام میں کوتاہی برتتے ہیں اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور جس کام کو یکسوئی،لگن،استقلال اور استقامت سے کرنا شروع کردیں اللہ رب العزت اس کام میں برکت ڈال دیتے ہیں۔
اسی بات کو جناب نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشاد سے اس طرح اخذ کیا جاسکتا ہے
                     بہترین عمل وہ ہے جو مستقل ہو گرچہ تھوڑا ہو
جیسا کہ جسم کو پاک صاف اور تندرست رکھنے کے لیے ہم روزانہ صفائی اور نہانے دھونے کا اہتمام کرتے ہیں اور بیماری سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہیں اور پرہیز کو علاج سے بہتر سمجھتے ہیں ۔اور اس سلسلہ میں ماہرین سے مشورہ بھی کرتے رہتے ہیں۔
اسی طرح ہماری روح کی پاکیزگی اس کہیں زیادہ توجہ کی مستحق ہےاور اس کے تمام ذرائع جسمانی پاکیزگی سے کہیں زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں بات فقط ہمت،یکسوئی،استقلال اور استقامت کی ہے۔ اور پرہیزگاری پرہیز سے کہیں بڑھ کر ہمارے لیے ضروری ہے۔
بقول بابا جی اشفاق احمد


اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پرہیزگاری کے حقیقی ذرائع جو کہ خالق حقیقی نے ہمیں عا فرمائے ہیں اختیار کرنے اور ان سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

11/29/2013

بدنی وروحانی صحت کےذرائع (1)

0 تبصرے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی۔ اور دور حاضر میں انسان نے ریسرچ کرکے ان تمام اجزاء کی تفصیل معلوم کرنے کی سعی کی ہے جن پر جسم انسانی مشتمل ہے۔ اس کی تفصیل گذشتہ پوسٹ " بدن کی کیمیاوی ترکیب" میں اجمالاً دی گئی ہے۔ 
ان تمام اجزا ء کے تفصیلی جائزے سے مدد لے کر انسان کو تمام ممکنہ بیماریوں سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔  جیسا جدید ترین تحقیقات میں انسان کے DNA کے موجود ریکارڈ کو ڈی کوڈ کر کے اسے پیدائش سے قبل ہی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی سعی بھی جاری ہے ۔ ان تمام اجزاء کا تعلق زمین سے ہے۔ گویا انسان کا جسم زمینی ہے اس لیے اس کی تمام بنیادی ضروتیں غذا اور صحت وغیرہ زمینی اجزاء سے پورے ہوتے ہیں۔اور ان میں پائی جانے کسی بھی قسم کی کمی بیشی کو زمینی ذرائع سے ہی پورا کیا جاتا ہے۔
لیکن بحیثیت انسان ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ ہم جتنی بھی کوشش کرلیں اور ترقی کی جتنی مرضی منازل طے کرلیں Ultimately ہماری بنیادی ترکیب بنانے والا ہی ہمارا بہتر سوچ سکتا ہے۔ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ کوئی بھی تخلیق کار ہی صرف اپنی تخلیق کی کمیوں، کوتاہیوں اور  ضرورتوں سے بہتر طور پر آگاہ ہو سکتا ہے۔
انسان صرف ایک ظاہری صورت کا نام نہیں بلکہ یہ روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے اور جسم کی ظاہری ترقی اور صحت انسان کو نفس مطمئنہ کے درجہ تک نہیں پہنچا سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ظاہری صحت اور خوبصورتی سے زیادہ اہم اندر یعنی روح کی صحت اور خوبصورتی ہے۔ 
جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ روح امر ربی ہے اور اس کا تعلق اوپر یعنی آسمانوں سے ہے لحاظہ اس کی ضرورتیں صرف آسمانی غذا سے پوری ہوسکتی ہیں۔ 
روح کی غذا اور اسکی صحت کے لیے ضروری ذرائع اللہ رب العزت نے اس وقت سے ہی مہیا کر رکھے ہیں جب سے اس انسان کو تخلیق کیا ہے۔
ا ب یہ انسان کے ذمہ ہے جس طرح وہ اپنے جسم کی صحت اور تندرستی کے لیے ذرائع تلاش کرتا ہے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے لیے اسے اچھی خاصی تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح وہ اپنی روح کی خوراک اور صحت کے لیے تگ ودو کرے یاد رہے کہ روح کی خوراک اور صحت کے ذرائع زیادہ آسانی سے دستیا ب ہیں لیکن ہم ہی اس پر غور نہیں کرتے۔" 
                   " وَلَقَد یَسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر"
اللہ رب العزت سے دعا ہے ہمیں روح کی تندرستی کے لیے تگ و دو کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین۔


11/28/2013

بدن کی کیمیاوی ترکیب

1 تبصرے
طب قدیم اور  یونانی میں بدن کے اجزئے ترکیی چاربنیادی عناصر کو مانا گیا
1 ہوا
2 پانی
3 مٹی اور 
4  آگ
چونکہ یہ بنیادی اور نظریاتی اجزائے ترکیی مانے گئے اور اس پر مزید ریسرچ اطبائے قدیم نے نہ کی اب اس کام کا بیڑا
 طب جدید نے اٹھایا اور 100 سے زائد عناصر دریافت کرلیے اور کا بدن انسانی میں عمل دخل دریافت کیا جس کی تقسیم حسب ذیل گراف سے ظاہر ہے



اور اس کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں


بشکریہ وکی پیڈیا

بدن کے اجزائے ترکیبی کی کیمیاوی تقسیم

Atomic
 number
Element Fraction of mass[3][4][5][6][7][8] Mass (kg)[9] Atomic percent Group
8 Oxygen 0.65 43 24 16
6 Carbon 0.18 16 12 14
1 Hydrogen 0.1 7 63 1
7 Nitrogen 0.03 1.8 0.58 15
20 Calcium 0.014 1 0.24 2
15 Phosphorus 0.011 0.78 0.14 15
19 Potassium 2.5×10−3 0.14 0.033 1
16 Sulfur 2.5×10−3 0.14 0.038 16
11 Sodium 1.5×10−3 0.1 0.037 1
17 Chlorine 1.5×10−3 0.095 0.024 17
12 Magnesium 500×10−6 0.019 0.007 2
26 Iron* 60×10−6 0.0042 0.00067 8
9 Fluorine 37×10−6 0.0026 0.0012 17
30 Zinc 32×10−6 0.0023 0.00031 12
14 Silicon 20×10−6 0.001 0.0058 14
37 Rubidium 4.6×10−6 0.00068 0.000033 1
38 Strontium 4.6×10−6 0.00032 0.000033 2
35 Bromine 2.9×10−6 0.00026 0.00003 17
82 Lead 1.7×10−6 0.00012 4.5E-06 14
29 Copper 1×10−6 0.000072 1.04E-05 11
13 Aluminium 870×10−9 0.00006 0.000015 13
48 Cadmium 720×10−9 0.00005 4.5E-06 12
58 Cerium 570×10−9 0.00004
56 Barium 310×10−9 0.000022 1.2E-06 2
50 Tin 240×10−9 0.00002 6.00E-07 14
53 Iodine 160×10−9 0.00002 7.50E-07 17
22 Titanium 130×10−9 0.00002 4
5 Boron 690×10−9 0.000018 0.000003 13
34 Selenium 190×10−9 0.000015 4.50E-08 16
28 Nickel 140×10−9 0.000015 1.5E-06 10
24 Chromium 24×10−9 0.000014 8.90E-08 6
25 Manganese 170×10−9 0.000012 1.5E-06 7
33 Arsenic 260×10−9 0.000007 8.90E-08 15
3 Lithium 31×10−9 0.000007 1.5E-06 1
80 Mercury 190×10−9 0.000006 8.90E-08 12
55 Caesium 21×10−9 0.000006 1.00E-07 1
42 Molybdenum 130×10−9 0.000005 4.50E-08 6
32 Germanium 5×10−6 14
27 Cobalt 21×10−9 0.000003 3.00E-07 9
51 Antimony 110×10−9 0.000002 15
47 Silver 10×10−9 0.000002 11
41 Niobium 1,600×10−9 0.0000015 5
40 Zirconium 6,000×10−9 0.000001 3.00E-07 4
57 Lanthanum 1,370×10−9 8.00E-07
52 Tellurium 120×10−9 7.00E-07 16
31 Gallium 7.00E-07 13
39 Yttrium 6.00E-07 3
83 Bismuth 5.00E-07 15
81 Thallium 5.00E-07 13
49 Indium 4.00E-07 13
79 Gold 140×10−9 2.00E-07 3.00E-07 11
21 Scandium 2.00E-07 3
73 Tantalum 2.00E-07 5
23 Vanadium 260×10−9 1.10E-07 1.20E-08 5
90 Thorium 1.00E-07
92 Uranium 1.3×10−9 1.00E-07 3.00E-09
62 Samarium 5.00E-08
74 Tungsten 2.00E-08 6
4 Beryllium 50×10−12 3.60E-08 4.50E-08 2
88 Radium 1×10−19 3.00E-14 1.00E-19 2
84 Polonium 6.8e-15[11] 16

*Iron = ~3 g in men, ~2.3 g in women

11/26/2013

امراض جسمانیہ وروحانیہ سے حفاظت

2 تبصرے
ہرانسان اپنے آپ کو ہمہ قسم کی جسمانی وروحانی تکالیف سے محفوظ رکھنا چاہتاہے۔
 بدن کی اندرونی وبیرونی حفاظت کے لیے وہ تمام قسم کے ذرائع استعمال کرتا ہے۔
جسم کی بیرونی حفاظت کے لیے وہ لباس، خوراک ،ادویات اور کاسمیٹک وغیرہ استعمال کرتا ہے جبکہ اندرونی حفاظت کے لیے صاف ستھری اور بہترین غذا، پھل وغیرہ استعمال کرتا ہےاور بوقت ضرورت ڈاکٹرز، سپیشلسٹس اور حکماء وغیرہ کی خدمات حاصل کرتا ہے اوراس ضمن میں اپنے بزرگوں کے تجربات سے بھی مستفید ہوتاہے اگرخدانخواستہ کسی معمولی مرض کا بھی اندیشہ ہو تو فوراً علاج کی فکر کرتاہے۔
اس کے برعکس روحانی امراض کے سلسلہ میں انسان انتہائی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتا ہے جسکی وجہ سے بعض اوقات وہ گناہوں کے قعر مذلت میں جا گرتا اور اسے احساس تک نہیں ہوتا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ حقیقی امراض روحانیہ کو امراض روحانیہ نہیں سمجھتا جبکہ بعض نہ سمجھ آنے والے امراض جسمانیہ یا پھر امراض روحانیہ کے عکس سے پیدا ہونے والے امراض کو امراض روحانیہ سمجھ بیٹھتا ہے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ جا چڑھتا ہے جو کہ کہ خیال کو حقیقت کا روپ دکھانے کے ماہر ہوتے ہیں اور پھر اس کو طول دیکر مال بنانے کے ہنر میں یکتا ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اول تو بندہ خود اپنا تجزیہ کرے کہ وہ کون سا ایسا عمل کرنے لگا ہے یا پھر کون سا ایسا عمل ہے جس کو ترک کرنے کے باعث اس کی کیفیات میں تبدیلی واقع ہوئی ہےاور مرض پیدا ہوا ہے۔ اور پھر اس کی تجدید کرے اگر کسی عمل کو کرنے سے تکلیف آئی ہے تو اس عمل کی تحقیق کرے کہ اس میں کیا خامی ہے جس کی وجہ سے نئی کیفیات پیدا ہوئی ہیں اور پھر اس خامی کو دور کرے۔ اسی طرح اگر کسی عمل کے ترک سے تکلیف آئی ہے تو اس کا ازالہ کرے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بدنی علاج کا بندوبست رکھے۔
اگر بندہ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کر سکے تو پھر اللہ ہی اس کا حا فظ ہے۔ اگر کسی سے مشورہ کی ضرورت پیش آئے تو اول کوشش کرے کہ ایسا آدمی مل جائے جو اس راہ گذر سے گذر چکا ہو اور اس کے نشیب وفراز اور پیچ وخم سے بخوبی واقف ہو جیسا کا امراض بدنیہ میں ہم کسی سپیشلسٹ سے مشورہ ضروری خیال کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ وظائف پر بھروسہ کرنے سے کام  تو بن سکتا ہے مگر اس سے مزید پیچیدگی کا اندیشہ بھی ہے۔ لحاظہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی ماہر امراض روحانیہ جو کہ قرآن وسنت کا عامل اور انہی کے مطابق علاج معالجہ کے فن پرعبور رکھتا ہو اسی سے مشور ہ کرے اور اگر ممکن ہو تو اسی سے علاج کروائے۔ 
جس طرح امراض جسمانیہ میں بندہ کا خود تگ ودو کرنا اور علاج معالجہ وپرہیز کا خیال رکھنا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ امراض روحانیہ میں توجہ کی ضرورت ہے۔
فی زمانہ ماہرین نفسیات بھی اس طرح کے کام کرتے نظر آتے ہیں اگر یہی ماہرین اپنے فن کو قرآن وسنت کی روشنی سے صیقل کرلیں تو سونے پر سہاگہ ہو گا کیونکہ سابقہ ادوار کے تماتر ماہرین امراض روحانیہ اپنے اپنے دور ماہر نفسیات بھی ہوا کرتے تھے تاریخ اس کی شاہد ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام امراض روحانیہ وجسمانیہ سے محفوظ فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین بوجھک الکریم۔